عیسائی سے نکاح کرنا کیسا؟
🌹 *عیسائی سے نکاح کرنا کیسا؟* 🌹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا نام آفاق ہے میں اسپین میں رہتا ہوں، میں نے یہاں نکاح کرنا ہے اور لڑکی عیسائی ہے ، اُس کی کتاب کا نام بائبل ہے اور وہ لڑکی میرے دوسرے نکاح میں آنے کو تیار ہے کیا اُس لڑکی کے ساتھ نکاح میرا جائز ہے؟
سائل: آفاق، اسپین
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هدایة الحق والصواب
وہ عورت جو محض غیر مسلم ہو مثلاً ہندو، آتش پرست وغیرہ (اہلِ کتاب نہیں)، یوں ہی فی زمانہ عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد جو خود کو عیسائی کہتے ہیں مگردہریے(لادین Atheist,جنہیں اسپینش زبان میں ATEOبھی کہتے ہیں وہ) ہو چکے ہیں، ان سے نکاح کسی صورت نہیں ہو سکتا اگر کیا تو یہ نکاح باطل ہے یعنی منعقد ہی نہ ہوگا۔ جو عورت دہریہ نہیں عیسائیہ اہل کتاب ہو ،مسلمان مردکا اس سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہے۔اگر کیاتو نکاح منعقد تو ہو جائے گا مگر یہ ممنوع اور گناہ کا کام ہے، اس سے بچنا واجب ہے۔کیونکہ فی زمانہ تمام یہودو نصاری ذمی نہیں بلکہ حربی ہیں اور حربیہ سے نکاح ناجائز ہے۔ شریعت اسلامیہ نے جو اہل کتاب عورت سے نکاح کی اجازت دی ہے وہ ذمیہ کے ساتھ خاص ہے۔ذمی وہ کتابی ہوتے ہیں جو مسلمانوں کے ملک میں ٹیکس دے کر رہیں۔ اسپین دارالحرب ہے اوردارالحرب میں رہنے والی اہلِ کتاب عورت (عیسائیہ و یہودیہ وغیرہ) سے نکاح کرنا مطلقا گناہ ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّؕ (221) ترجمۂ کنزالعرفان: اورمشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں ۔ (سورۃ البقرۃ2، آیت نمبر 221)
احکام القرآن میں ہے:”واتفق جماعۃ من الصحابۃ علی اباحۃنکاح الکتابیات الذمیات“ترجمہ:صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت ذمی اہل کتابیات سے نکاح کی اباحت پر متفق ہے۔
(احکام القرآن للجصاص،ج2،ص460،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:”قال ابن عباس:ولا تحل نساء اھل الکتاب اذاکانوا حرباً“ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:اہل کتاب جب حربی ہوں تو ان کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔
(احکام القرآن للجصاص،ج2،ص462،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
علامہ كمال الدين محمد بن عبد الواحد ابن الہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفى: 861ھ) فرماتے ہیں: " وتكره الكتابية الحربية إجماعا" یعنی:حربیہ اہلِ کتاب عورت سے نکاح اجماعی طور پر مکروہ ہے۔
(فتح القدیر، کتاب النکاح، فصل فی بیان المحرمات، جلد3، صفحہ 228، مطبوعہ: دار الفکر)
علامہ محمد امین بن عمر ابن ِ عابدین رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی 1252ھ) فرماتے ہیں: "أن إطلاقهم الكراهة في الحربية يفيد أنها تحريمية" یعنی: کتابیہ حربیہ سے نکاح کے متعلق فقہائے کرام کا کراہت کو مطلق رکھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ مکروہِ تحریمی ہے۔
(رد المحتار على الدر المختار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات،جلد 3، صفحہ 45، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت)
فقیہ حنفیہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی 1069ھ) دررالحکام پر اپنے حاشیے میں لکھتے ہیں: " قال الكمال والأولى أن لا يفعل ولا يأكل ذبيحتهم إلا لضرورة وتكره الكتابية الحربية إجماعا لانفتاح باب الفتنة مع إمكان التعلق المستدعي للمقام معها في دار الحرب وتعريض الولد على التخلق بأخلاق أهل الكفر وعلى الرق بأن تسبى وهي حبلى فيولد الولد رقيقا، وإن كان مسلما " یعنی: علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا بہتر یہی ہے کہ کتابیہ عورت سے نکاح نہ کیا جائے اور سوائے اشد ضرورت کے ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے۔ دارالحرب کی رہنے والی اہلِ کتاب عورت سے نکاح اجماعی طور پر مکروہ (تحریمی) ہے، فتنے کا دروازہ کھولنے کے سبب ساتھ ہی ساتھ اسی کے ہمراہ دارالحرب میں مقیم ہو جانے کی خواہش رکھنے کے امکان اور ہونے والی اولاد کے کافروں کی عادت و اطوار اپنانے اور غلام بننے پر پیش کرنے کی وجہ سے، بایں معنی کہ اس عورت کو قید کیا جاتا ہےاس حال میں کہ وہ حاملہ ہو تو وہ جو بچہ جنے کی وہ بھی غلام ہوگا اگرچہ وہ شخص مسلمان ہو۔
(درر الحكام شرح غرر الأحكام (مع حاشية الشرنبلالي )، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 332، مطبوعہ: دار إحياء الكتب العربية)
اعلی حضرت امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی 1340ھ) فرماتے ہیں:نصرانیہ اگر سلطنتِ اسلامیہ میں مطیع الاسلام ہے اس سے نکاح مکروہِ تنزیہی ہے ورنہ مکروہِ تحریمی قریب بحرام۔ یہ بھی اس صورت میں کہ وہ واقعی نصرانیہ ہو نہ حالتِ دہریت و نیچریت جیسے مسلمان کہلانے والا نیچری مسلمان نہیں۔
(فتاوی افریقہ، جلد 1، صفحہ نمبر 85، مطبوعہ: مکتبہ نوریہ رضویہ)
اعلی حضرت امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی 1340ھ) فرماتے ہیں: عورت مجوسیہ سے مسلمان نکاح نہیں کرسکتا، اگر کرے گا باطل، یوں ہی نصرانیہ سے ایک قول پر، اور دوسرے قول پر نصرانیہ سے نکاح اگر چہ ہوجائے گا مگر ممنوع وگناہ ہے، پہلے قول پر اس سے بچنا فرض ہے اور دوسرے قول پرواجب ۔ واﷲتعالی اعلم
(فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ نمبر 262، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (المتوفی 1367ھ) بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں: "یہودیہ اور نصرانیہ سے مسلمان کا نکاح ہوسکتا ہے مگر چاہيے نہیں کہ اس میں بہت سے مفاسد کا(بہت سی خرابیوں کا) دروازہ کھلتا ہے۔ مگر یہ جواز اُسی وقت تک ہے جب کہ اپنے اُسی مذہبِ یہودیت یا نصرانیت پر ہوں اور اگر صرف نام کی یہودی نصرانی ہوں اور حقیقۃً نیچری اور دہریہ مذہب رکھتی ہوں، جیسے آجکل کے عموماً نصاریٰ کا کوئی مذہب ہی نہیں تواُن سے نکاح نہیں ہوسکتا، نہ ان کا ذبیحہ جائز بلکہ ان کے یہاں تو ذبیحہ ہوتا بھی نہیں۔"
(بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 32، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
والله اعلم عزوجل و رسوله اعلم صلی الله تعالی علیه واله وسلم
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه
مولانا احمدرضا عطاری حنفی عفی عنہ
3 جمادی الآخر 1443ھ/ 7 جنوری 2022ء
الجواب الصحیح
علامہ ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری مدظلہ العالی
#AhsanNetworkOfficial
Comments
Post a Comment