ثناء
*عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں* *کہ نا اُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں* *جما کے دل میں صفیں حسرت و تمنا کی* *نگاہِ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں* *مجھے فسردگئ بخت کا اَلم کیا ہو* *وہ ایک دم میں خزاں کو بہار کرتے ہیں* *خدا سگانِ نبی سے یہ مجھ کو سنوا دے* *ہم اپنے کتوں میں تجھ کو شمار کرتے ہیں* *ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضیلتیں ہم پر* *کہ پاس رہتے ہیں طوفِ مزار کرتے ہیں* *جو خوش نصیب یہاں خاکِ دَر پہ بیٹھتے ہیں* *جلوسِ مسندِ شاہی سے عار کرتے ہیں* *ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گے* *جو دم میں آگ کو باغ و بہار کرتے ہیں* *اشارہ کر دو تو بادِ خلاف کے جھونکے* *ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں* *تمہارے دَر کے گداؤں کی شان عالی ہے* *وہ جس کو چاہتے ہیں تاجدار کرتے ہیں* *گدا گدا ہے گدا وہ توکیا ہی چاہے ادب* *بڑے بڑے ترے دَر کا وقار کرتے ہیں* *تمام خلق کو منظور ہے رضا جن کی* *رضا حضور کی وہ اختیار کرتے ہیں* *سنا کے وصفِ رُخِ پاک عندلیب کو ہم* *رہینِ آمدِ فصلِ بہار کرتے ہیں* *ہوا خلاف ہو چکرائے ناؤ کیا غم ہے* *وہ ایک آن میں بیڑے کو پار کرتے ہیں* *اَنَا لَھَا سے وہ بازار کسمپرساں میں* *تسلّیِ دلِ ب...