کیا مہکتے ہیں مہکنے والے*

*کیا مہکتے ہیں مہکنے والے* *بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے* *جگمگا اُٹھی مِری گور کی خاک* *تیرے قربان چمکنے والے* *مہِ بے داغ کے صَدقے جاؤں* *یُوں دمکتے ہیں دمکنے والے* *عرش تک پھیلی ہے تابِ عارِض* *کیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے* *گلِ طیبہ کی ثنا گاتے ہیں* *نخلِ طوبیٰ پہ چہکنے والے* *عاصیو! تھام لو دامن اُن کا* *وہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والے* *ابر رحمت کے سَلامی رہنا* *پھلتے ہیں پودے لچکنے والے* *ارے یہ جلوہ گہِ جاناں ہے* *کچھ اَدَب بھی ہے پھڑکنے والے* *سُنّیو! ان سے مَدَد مانگے جاؤ* *پڑے بکتے رہیں بکنے والے* *شمع یادِ رُخِ جاناں نہ بجھے* *خاک ہو جائیں بھڑکنے والے* *مَوت کہتی ہے کہ جلوہ ہے قریب* *اِک ذرا سو لیں بلکنے والے* *کوئی اُن تیز رووں سے کہہ دو* *کِس کے ہو کر رہیں تھکنے والے* *دل سُلگتا ہی بھلا ہے اے ضبط* *بُجھ بھی جاتے ہیں دہکنے والے* *ہم بھی کمھلانے سے غافِل تھے کبھی* *کیا ہنسا غنچے چٹکنے والے* *نخل سے چھٹ کے یہ کیا حال ہوا* *آہ او پتّے کھڑکنے والے* *جب گِرے مُنھ سُوئے میخانہ تھا* *ہوش میں ہیں یہ بہکنے والے* *دیکھ اَو زَخمِ دِل آپے کو سنبھال* *پھوٹ بہتے ہیں تپکنے والے* *مے کہاں اور کہاں میں زاہد* *یُوں بھی تو چھکتے ہیں چھکنے والے* *کفِ دریائے کرم میں ہیں رضاؔ* *پانچ فوّارے چھلکنے والے* #AhsanNetworkOfficial #KiaMehaktyhaMehaknyWalay

Comments

Popular posts from this blog

Ya Mustafa ata ho phir izn hazri ka